🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

159. باب الندب إِلى وضع الأيدي على الركب في الركوع ونسخ التطبيق
باب: رکوع میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنا اور تطبیق کا منسوخ ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
310 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ مُصْعَبُ ابْنُ سَعْدٍ: صَلَيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّيَّ، ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذَيَّ، فَنَهَانِي أَبِي، وَقَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ؛ فَنُهِينَا عَنْهُ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِينَا عَلَى الرُّكَبِ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کے بیٹے مصعب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا، اس پر میرے والد نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے لیکن بعد میں اس سے روک دیے گئے اور یہ حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 118 باب وضع الأكف على الركب في الركوع»
وضاحت: سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنا منقول ہے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب لا کر اشارہ فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں