🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

167. باب جواز الصلاة في النعلين
باب: جوتیاں پہن کر نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 325
325 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ الأَزْدِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ: نَعَمْ
سعید بن یزید ازدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 24 باب الصلاة في النعال»
وضاحت: سنن ابوداود اور مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کے خلاف کرو۔ وہ جوتیوں میں نماز پڑھتے۔ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز میں جوتے اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نعل عربوں کا ایک خاص جوتا ہے۔ ان عام جوتوں میں نماز جائز نہیں۔ خواہ وہ پاک صاف بھی ہوں۔ دلائل کی رو سے ایسا کہنا صحیح نہیں ہے۔ جوتوں میں نماز بلا کراہت جائز اور درست ہے بشرطیکہ وہ پاک اور صاف ستھرے ہوں۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں