🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

186. باب الدليل لمن قال الصلاة الوسطى هي صلاة العصر
باب: اس کی دلیل جس نے کہا نماز وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 365
365 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَلأَ اللهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبورَهُمْ نَارًا، شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مشرکین کو) یہ بددعا دی کہ: ” «اللّٰهُمَّ امْلَأْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا» ”اے اللہ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے،“ انہوں نے ہم کو «الصَّلَاةَ الْوُسْطَىٰ» ”صلوۃِ وسطیٰ“ (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی حتیٰ کہ سورج بھی غروب ہو گیا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 365]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 98 باب الدعاء على المشركين بالهزيمة والزلزلة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 366
366 صحيح حديث جَابرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَمَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، قَالَ: يَا رَسولَ اللهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: واللهِ مَا صَلَّيْتُهَا فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتوَضَّأَ للِصَّلاَةِ، وَتَوَضَّأْنَا لَهَا، فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک مرتبہ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور وہ کفارِ قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے، انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! سورج غروب ہو گیا اور نمازِ عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہو سکا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔“ پھر ہم وادیِ بطحان میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو بنایا، اس وقت سورج ڈوب چکا تھا، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی، اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 36 باب من صلى بالناس جماعة بعد ذهاب الوقت»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں