اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
194. باب فضل صلاة الجماعة وانتظار الصلاة
باب: جماعت کی نماز کی فضیلت اور جماعت کے لیے انتظار کا بیان
حدیث نمبر: 387
387 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلاَةُ الْجَمِيعِ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلاَتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ، وَأَتَى الْمَسْجِدَ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلاَّ رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، وَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتْ تَحْبِسُهُ، وَتُصَلِّي عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي يُصَلِّي فيهِ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں، گھر کے اندر یا بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا ثواب زیادہ ملتا ہے، کیونکہ جب کوئی شخص تم میں سے وضو کرے اور اس کے تمام آداب کا لحاظ رکھے، پھر مسجد میں صرف نماز کی غرض سے آئے تو اس کے ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس سے ایک گناہ معاف کرتا ہے، اس طرح وہ مسجد کے اندر آئے گا، مسجد میں آنے کے بعد جب تک نماز کے انتظار میں رہے گا اسے نماز ہی کی حالت میں شمار کیا جائے گا اور جب تک اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمتِ خداوندی کی دعائیں کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر“ جب تک کہ وہ ریاح خارج کر کے (وہ فرشتوں کو) تکلیف نہ دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 387]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 87 باب الصلاة في مسجد السوق»
الحكم على الحديث:
«صحیح»