اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
196. باب المشي إِلى الصلاة تمحى به الخطايا وترفع به الدرجات
باب: نماز کے لیے چل کر جانے سے خطائیں مٹتی اور درجات بلند ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 389
389 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ ذلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ: فَذلِكَ مِثْلُ الصَّلَواتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر جاری ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے، کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے؟“ صحابہ نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے کہ اللہ پاک ان کے ذریعے سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 6 باب الصلوات الخمس كفارة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 390
390 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے، اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی کا سامان کرے گا، وہ صبح شام جب بھی مسجد میں جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 390]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 37 باب فضل من غدا إلى المسجد ومن راح»
الحكم على الحديث:
«صحیح»