🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

199. باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها
باب: قضاء نماز جلدی قضا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 396
396 صحيح حديث عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ، حَتَّى إِذَا كَانَ وَجْهُ الصُّبْحِ عَرَّسُوا فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ لاَ يُوقَظُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ وَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ؛ فَاعْتَزَلَ رَجٌلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: يَا فُلاَنُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا قَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكُوبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إذا بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ؛ فَقُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ فَقَالَتْ: إِنَّهُ لاَ مَاءَ فَقُلْنَا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ فَقُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللهِ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِن أَمْرِهَا حَتَّى اسْتَقْبَلْنَا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا، غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا، فَمَسَحَ فِي الْعَزْلاَوَيْنِ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا، أَرْبَعِينَ رَجُلاً، حَتَّى رَوِينَا فَمَلأْنا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا، وَهِيَ تَكَادُ تَنِضُّ مِنَ الْمِلْءِ ثُمَّ قَالَ: هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ فَجُمِعَ لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْر حَتَّى أَتَتْ أَهْلَهَا فَقَالَتْ: لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيٌّ كَمَا زَعَمُوا فَهَدَى اللهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، رات بھر سب لوگ چلتے رہے، جب صبح کا وقت قریب ہوا تو پڑاؤ کیا (چونکہ ہم تھکے ہوئے تھے) اس لیے سب لوگ اتنی گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا، سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جاگے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ سوتے ہوتے تو جگاتے نہیں تھے تاآنکہ آپ خود ہی جاگتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے، آخر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے سر مبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنے لگے، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاگ گئے اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا (پھر کچھ فاصلے پر تشریف لائے) اور یہاں آپ اترے اور ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، ایک شخص ہم سے دور کونے میں بیٹھا رہا، اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس سے فرمایا: ”اے فلاں! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کس چیز نے روکا؟“ اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ پاک مٹی سے تیمم کر لے (پھر اس نے بھی تیمم کے بعد) نماز پڑھی، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا (تاکہ پانی تلاش کریں کیونکہ) ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، اب ہم اسی حالت میں چل رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو دو مشکوں کے درمیان (سواری پر) اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے جا رہی تھی، ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ملتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہاں پانی نہیں ہے، ہم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر سے پانی کس قدر فاصلے پر ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن ایک رات کا فاصلہ ہے، ہم نے اس سے کہا کہ اچھا! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو، وہ بولی رسول اللہ کے کیا معنی ہیں؟ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آخر ہم اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے، اس نے آپ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہہ چکی تھی، ہاں اتنا اور کہا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے (اس لیے واجب الرحم ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کے دونوں مشکیزوں کو اتارا گیا اور آپ نے ان کے دہانوں پر دست مبارک پھیرا، ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے اس میں سے خوب سیراب ہو کر پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور بالٹیاں بھی بھر لیں، ہم نے صرف اونٹوں کو پانی نہیں پلایا، اس کے باوجود اس کی مشکیں پانی سے اتنی بھری ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا ابھی بہہ پڑیں گی، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ (کھانے کی چیزوں میں سے) تمہارے پاس ہے میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ اس عورت کے سامنے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کر دی گئیں، پھر جب وہ اپنے قبیلے میں آئی تو اپنے آدمیوں سے اس نے کہا کہ آج میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ (اس کے ماننے والے) لوگ کہتے ہیں وہ واقعی نبی ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے قبیلے کو اسی عورت کی وجہ سے ہدایت دی، وہ خود بھی اسلام لائی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 396]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 397
397 صحيح حديث أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا، لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلاَّ ذلِكَ، (وَأَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِي)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے، اس قضا کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا“ اور (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”نماز میرے یاد آنے پر قائم کر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 397]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 37 باب من نسى صلاة فليصل إذا ذكرها ولا يعيد إلا تلك الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں