🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

217. باب الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح
باب: قیام رمضان کی ترغیب اور وہ تراویح ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
435 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا واحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لیے قیام (نماز تراویح) کرے، اس کے اگلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 27 كتاب الإيمان: 27 باب تطوع قيام رمضان من الإيمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
436 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّوا بِصَلاَتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ؛ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ، لكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت اٹھ کر مسجد میں نماز پڑھی اور چند صحابہ بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، صبح کو ان صحابہ نے دوسرے لوگوں سے اس کا ذکر کیا، چنانچہ (دوسرے دن) اس سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، دوسری صبح کو اس کا چرچا اور زیادہ ہوا، پھر کیا تھا تیسری رات بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو ان صحابہ نے آپ کے پیچھے نماز شروع کر دی، چوتھی رات جو آئی تو مسجد میں نمازیوں کی کثرت سے تل رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی، لیکن آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز نہیں پڑھائی اور فجر کی نماز کے بعد لوگوں سے خطاب کیا، پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! مجھے تمہاری اس حاضری سے کوئی ڈر نہیں لیکن میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے پھر تم سے یہ ادا نہ ہو سکے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 29 باب من قال في الخطبة بعد الثناء أما بعد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں