اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
219. باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل
باب: تہجد میں لمبی قراء ت کا مستحب ہونا
حدیث نمبر: 441
441 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمْ يَزَلْ قَائمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ؛ قِيلَ لَهُ: وَمَا هَمَمْتَ قَالَ: هَمَمْت أَنْ أَقْعُدَ وَأَذَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا، ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے بتلایا: میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 9 باب طول القيام في صلاة الليل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»