اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
228. باب فضل الماهر بالقرآن والذي يتتعتع فيه
باب: قرآن پڑھنے میں ماہر کا بیان اور اس کا بیان جو اٹک اٹک کر قرآن پڑھے
حدیث نمبر: 461
461 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُو حَافِظٌ لَهُ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ، فَلَهُ أَجْرَانِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ بھی ہے، مکرم اور نیک لکھنے والے (فرشتوں) جیسی ہے اور جو شخص قرآن مجید بار بار پڑھتا ہے، پھر بھی وہ اس کے لیے دشوار ہے تو اسے دوگنا ثواب ملے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 461]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 80 سورة عبس»
وضاحت: بعض لوگوں کی زبان پر قرآن پاک کے الفاظ جلدی نہیں چڑھتے اور ان کو بار بار مشق کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان ہی کے لیے دو گنا ثواب ہے۔ کیونکہ وہ کافی مشقت کے بعد قراء ت قرآن میں کامیاب ہوتے ہیں۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»