🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

237. باب معرفة الركعتين اللتين كان يصليهما النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد العصر
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر کے بعد کی دو رکعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
477 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ أَزْهَرَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالُوا: اقْرأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ، وَقُلْ لَهَا: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَضْرِبُ النَّاسَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْهُمَا قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي؛ فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ، قُولِي لَهُ: تَقُولُ لَكَ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتأْخِرِي عَنْهُ فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَإِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ
سیدنا کریب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہم نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہم سب کا سلام کہنا اور اس کے بعد عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کرنا، انہیں یہ بھی بتا دینا کہ ہمیں خبر ہوئی ہے کہ آپ یہ دو رکعات پڑھتی ہیں، حالانکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات سے منع کیا ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان رکعات کے پڑھنے پر لوگوں کو مارا بھی تھا۔ کریب نے بیان کیا کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور پیغام پہنچایا، اس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کرو، چنانچہ میں ان حضرات کی خدمت میں واپس ہوا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو نقل کر دی، انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا انہی پیغامات کے ساتھ جن کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھیجا تھا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”آپ عصر کے بعد نماز پڑھنے سے روکتے تھے“ لیکن ایک دن میں نے دیکھا کہ عصر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ دو رکعات پڑھ رہے ہیں، عصر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے (اور دو رکعت ادا کرنے لگے)، میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کی چند عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اس لیے میں نے ایک باندی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور میں نے اس سے کہہ دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک طرف ہو کر یہ پوچھے کہ ام سلمہ کہتی ہے کہ ”یا رسول اللہ! آپ تو ان دو رکعات سے منع کرتے تھے حالانکہ میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ خود انہیں پڑھتے ہیں؟“ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہٹ جانا۔ باندی نے پھر اسی طرح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو (آپ نے ام سلمہ سے) فرمایا: ”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کے متعلق پوچھا، بات یہ ہے کہ میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ آ گئے تھے اور ان کے ساتھ بات کرنے کی وجہ سے ظہر کے بعد دو رکعات نہیں پڑھ سکا تھا، سو یہ وہی دو رکعت ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 22 كتاب السهو: 8 باب إذا كُلِّم وهو يصلي فأشار بيده واستمع»
وضاحت: نمازی سے کوئی بات کرے اور وہ سن کر اشارے سے کچھ جواب دے دے تو نماز فاسد نہ ہوگی جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوابی اشارہ اس حدیث سے ثابت ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 478
478 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُهُمَا سِرًّا وَلاَ عَلاَنِيَةً؛ رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ دو رکعات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں فرمایا، پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 33 باب ما يصلي بعد العصر من الفوائت ونحوها»
وضاحت: عصر کے بعد دو رکعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھیں۔ امت کے لیے آپ نے عصر کے بعد نفل نمازوں سے منع فرمایا ہے۔ (راز)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے لیکن وفد عبدالقیس کی وجہ سے آپ کی ظہر کی بعد والی دو سنتیں رہ گئی تھیں تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد کا وقت درحقیقت نہی کا وقت ہے اور اس میں کوئی نماز پڑھنا منع ہے لیکن اگر کوئی سببی نماز ہو تو وہ پڑھی جا سکتی ہے جیسے کوئی قضا نماز، نماز جنازہ، تحیۃ المسجد وغیرہ۔ باقی ان دو رکعات پر ہمیشگی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت میں موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب ایک کام ایک دفعہ کر لیتے تو پھر اس پر ہمیشگی فرماتے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں