🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

254. باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى وشهود الخطبة مفارقات للرجال
باب: نماز عید کے لیے خواتین کا عید گاہ جانا اور مردوں سے علیحدہ بیٹھ کر امام کا خطبہ سننا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
511 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ، يَوْمَ الْعِيدَيْنِ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ، وَيَعْتَزِلُ الحُيَّضُ عَنْ مُصَلاَّهُن قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو بھی باہر لے جائیں تاکہ وہ مسلمانوں کے اجتماع اور ان کی دعاؤں میں شریک ہوسکیں، البتہ حائضہ عورتوں کو نماز پڑھنے کی جگہ سے دور رکھیں، ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پاس (پردہ کرنے کے لیے) چادر نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ساتھی عورت اپنی چادر کا ایک حصہ اسے اوڑھا دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 2 باب وجوب الصلاة في الثياب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں