🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

257. باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء
باب: نماز استسقاء میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 516
516 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلاَّ فِي الاِسْتِسْقَاءِ، وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ (زیادہ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 15 كتاب الاستسقاء: 22 باب رفع الإمام يده في الاستسقاء»
وضاحت: ابو داؤد کی مرسل روایتوں میں یہی حدیث اس طرح ہے کہ” استسقاء کے سوا پوری طرح آپ کسی دعا میں بھی ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بخاری کی اس روایت میں ہاتھ اٹھانے کے انکار سے مراد یہ ہے کہ بمبالغہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ اس روایت سے یہ کسی بھی طرح ثابت نہیں ہو سکتا کہ آپ دعاؤں میں ہاتھ ہی نہیں اٹھاتے تھے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں