🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

260. باب في ريح الصبا بالدبور
باب: دبور کے ساتھ صبا کی آندھی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
519 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پروا ہوا کے ذریعے مجھے مدد پہنچائی گئی اور قومِ عاد پچھوا کے ذریعے ہلاک کر دی گئی تھی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 15 كتاب الاستسقاء: 26 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم نصرت بالصبا»
وضاحت: مشرق سے آنے والی ہوا کو صبا (پروا) کہتے ہیں۔ صبا سے غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی تھی۔ جب تقریباً بارہ ہزار کے لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کر رکھا تھا تو اللہ تعالیٰ نے سردیوں کی یخ بستہ رات میں صبا بھیج دی جس نے مشرکین کے چہروں کو غبار آلود کر دیا۔ ان کی آگ بجھ گئی اور ان کے خیمے اکھڑ گئے اور وہ لڑائی کے بغیر ہی شکست کھا گئے۔ پچھوا ہوا (مغرب کی ہوا) سخت تیز اندھی ہے۔ اسے عقیم اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے سیّدنا ہود علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کر دیا اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ان کی نسل تباہ کر دی۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں