🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

274. باب فضل الصلاة على الجنازة واتباعها
باب: جنازہ کے ساتھ جانے اور جنازہ کی نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 551
551 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّي عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، قِيلَ: وَمَا الْقيرَاطَانِ قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعظيمَيْنِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”جس نے جنازہ میں شرکت کی پھر نماز جنازہ پڑھی تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہا تو اسے دو قیراط کا ثواب ملتا ہے۔“ پوچھا گیا کہ دو قیراط کتنے ہوں گے؟ فرمایا کہ: ”دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔“ (یعنی دنیا کا قیراط مت سمجھو جو درہم کا بارہواں حصہ ہوتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ آخرت کے قیراط احد پہاڑ کے برابر ہیں) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 59 باب من انتظر حتى تدفن»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 552
552 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُولُ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْنَا، فَصَدَّقَتْ، يَعْنِي عَائِشَةَ أَبَا هُرَيْرَةَ؛ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ؛ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثيرَةٍ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا“، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث بہت زیادہ بیان کرتے ہیں، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد خود سنا ہے، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر تو ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان اٹھایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب الجنائز:58 باب فضل اتباع الجنائز»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں