اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
298. باب الحمل أجرة يتصدق بها والنهي الشديد عن تنقيص المتصدق بقليل
باب: مزدور کو بھی صدقہ کرنا چاہیے اور بہت تھوڑا صدقہ کرنے والے (مخلص) کی تنقیص کرنے کی شدید مذمت
حدیث نمبر: 598
598 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ كُنَّا نَتَحَامَلُ؛ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ؛ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هذَا، وَمَا فَعَلَ هذَا الآخَرُ إِلاَّ رِئَاءً فَنَزَلَتْ (الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ) الآيَةَ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ہوا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھاتے (اور اس کی مزدوری صدقہ میں دے دیتے) چنانچہ ابو عقیل رضی اللہ عنہ سے مزدوری سے آدھا صاع خیرات لے کر آئے اور ایک دوسرے صحابی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اس سے زیادہ لائے اس پر منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس (یعنی ابو عقیل) کے صدقہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس دوسرے (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے تو محض دکھاوے کے لیے اتنا بہت سا صدقہ دیا ہے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی کہ ﴿یہ ایسے لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں نفلی صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور خصوصاً ان لوگوں پر جنہیں بجز ان کی محنت مزدوری کے کچھ نہیں ملتا یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ بھی ان (مذاق اڑانے والوں) سے تمسخر کرے گا، ان کے لیے دردناک عذاب ہے﴾ [سورة التوبة: 79] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 9 سورة التوبة: 11 باب قوله (الذين يلمزون المطوعين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»