🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

328. باب الدعاء لمن أتى بصدقة
باب: صدقہ لے کر آنے والے کے لیے دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
651 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلاَنٍ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب کوئی قوم اپنی زکاۃ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ» ”اے اللہ! آلِ فلاں کو خیر و برکت عطا فرما۔“ میرے والد بھی اپنی زکاۃ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» ”اے اللہ! آلِ ابی اوفی کو خیر و برکت عطا فرما۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 64 باب صلاة الإمام ودعائه لصاحب الصدقة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو معاویہ تھی۔ بعض نے ابو محمد اور بعض نے ابو ابراہیم بیان کی ہے۔ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ ان کے والد علقمہ بن قیس اسلمی بھی صحابی تھے۔ حدیبیہ، خیبر اور بعد کے غزوات میں شریک رہے۔ حنین میں ہاتھ زخمی ہوا تھا۔ جس کا نشان آخر تک رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک مدینہ میں مقیم رہے۔ بعد میں کوفہ چلے گئے۔ وہیں ۸۶ ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں