🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

347. باب النهى عن صوم يوم الفطر ويوم الأضحى
باب: یوم الفطر اور یوم الاضحی کو روزہ رکھنا حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 697
697 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ: هذَانِ يَوْمَانِ نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا: يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْيَوْمُ الآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے: (رمضان کے) روزوں کے بعد افطار کا دن (عیدالفطر) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔ (یعنی عیدالاضحی کا دن)“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 697]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 66 باب صوم يوم الفطر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 698
698 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلاَ صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ: الْفِطْرِ وَالأَضْحى
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید الفطر اور عید الاضحی دونوں دن روزے نہ رکھے جائیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 20 كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 6 باب مسجد بيت المقدس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 699
699 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ زِيَادِ ابْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: رَجُلٌ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا، قَالَ: أَظُنُّهُ، قَالَ: الاثْنَيْنِ، فَوَافَقَ يَوْمَ عِيدٍ؛ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَرَ اللهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هذَا الْيَوْمِ
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک شخص سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کی نذر مانی، پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس دن روزہ رکھنے سے“ (اللہ کے حکم سے) منع فرمایا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 67 باب الصوم يوم النحر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں