اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
361. باب متى يدخل من أراد الاعتكاف في معتكفه
باب: اعتکاف کا ارادہ کرنے والے کو اعتکاف کی جگہ کب داخل ہونا چاہیے
حدیث نمبر: 729
729 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَكُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَاءً، فَيُصَلِّي الصُّبْحَ، ثُمَّ يَدْخُلُهُ؛ فَاسْتَأْذَنَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَضْرِبَ خِبَاءً، فَأَذِنَتْ لَهَا فَضَرَبَتْ خِبَاءً؛ فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ ضَرَبَتْ خِبَاءً آخَرَ؛ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الأَخْبِيَةَ، فَقَالَ: مَا هذَا فَأُخْبِرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آلْبِر تُرَوْنَ بِهِنَّ فَتَرَكَ الاعْتِكَافَ ذلِكَ الشَّهْرَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے، میں آپ کے لیے (مسجد میں) ایک خیمہ لگا دیتی اور آپ صبح کی نماز پڑھ کر اس میں چلے جاتے تھے، پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے خیمہ کھڑا کرنے کی (اپنے اعتکاف کے لیے) اجازت چاہی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور انہوں نے ایک خیمہ کھڑا کر لیا، جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی (اپنے لیے) ایک خیمہ کھڑا کر لیا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خیمے دیکھے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ آپ کو ان کی حقیقت کی خبر دی گئی، آپ نے فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو یہ خیمے ثواب کی نیت سے کھڑے کیے گئے ہیں؟“ پس آپ نے اس مہینہ (رمضان کا) اعتکاف چھوڑ دیا اور شوال کے عشرہ کا اعتکاف کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الاعتكاف/حدیث: 729]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 33 كتاب الاعتكاف: 6 باب اعتكاف النساء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»