🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

364. باب مواقيت الحج والْعمرة
باب: حج اور عمرہ کے میقات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 734
734 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ َلاهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرٍ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُريدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَاكَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرنِ منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم؛ یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں ان کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ان کے گھر ہیں، یہاں تک کہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔“ (جو حضرات عمرہ کے لیے تنعیم جانا ضروری گردانتے ہیں یہ حدیث ان پر حجت ہے بشرطیکہ بنظرِ تحقیق مطالعہ فرمائیں) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 9 باب مهل أهل الشام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 735
735 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کے لوگ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، شام کے لوگ جحفہ سے اور نجد کے لوگ قرنِ منازل سے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یمن کے لوگ یلملم سے احرام باندھیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 8 باب ميقات أهل المدينة ولا يهلوا قبل ذي الحليفة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں