🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

367. باب الإهلال من حيث تنبعث الراحلة
باب: جہاں سے سواری اٹھے وہیں سے لبیک پکارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 738
738 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا، لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا قَالَ: وَمَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ: رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ، وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَة قَالَ عَبْدُ اللهِ: أَمَّا الأَرْكَانُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النَّعْلَ الَّتي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ، وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أُنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ
عبیداللہ بن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! میں نے آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جنہیں آپ کے ساتھیوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ کہنے لگے: اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے طواف کے وقت آپ کو دیکھا کہ دو یمانی رکنوں کے سوا کسی اور رکن کو آپ نہیں چھوتے ہو۔ (دوسرے) میں نے آپ کو سبتی جوتے پہنے ہوئے دیکھا اور (تیسرے) میں نے دیکھا کہ آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہو اور (چوتھی بات) میں نے یہ دیکھی کہ جب آپ مکہ میں تھے، لوگ (ذی الحجہ کا) چاند دیکھ کر لبیک پکارنے لگتے ہیں (اور) حج کا احرام باندھ لیتے ہیں اور آپ آٹھویں تاریخ تک احرام باندھ لیتے ہیں۔ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ (دوسرے) ارکان کو تو میں یوں نہیں چھوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور رہے سبتی جوتے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا کہ جن کے چمڑے پر بال نہیں تھے اور آپ انہیں کو پہنے پہنے وضو فرمایا کرتے تھے، تو میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کی بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ رنگتے ہوئے دیکھا ہے، تو میں بھی اسی رنگ سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور احرام باندھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا، جب تک آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ چل پڑتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 738]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 30 باب غَسْل الرجلين في النعلين، ولا يمسح على النعلين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں