اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
384. باب ما يلزم من أحرم بالحج ثم قدم مكة من الطواف والسعي
باب: جو حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اس پر کیا لازم آتا ہے؟
حدیث نمبر: 774
774 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعُمْرَةَ، وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ (وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)
عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے بیت اللہ کا طواف عمرہ کے لیے کیا لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کی، کیا ایسا شخص (بیت اللہ کے طواف کے بعد) اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی، پھر صفا اور مروہ کی سعی کی اور ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 774]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 30 باب قول الله تعالى: (واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى»
وضاحت: گویا سیّدناابن عمر رضی اللہ عنہمانے یہ اشارہ کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی واجب ہے۔ اور یہ بھی بتلایا کہ صفا اور مروہ میں دوڑنا واجب ہے۔ اور جب تک یہ کام نہ کرے عمرے کا احرام نہیں کھل سکتا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»