🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

390. باب بيان عدد عمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم وزمانهن
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے اور ان کے اوقات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 782
782 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلاَّ الَّتِي اعْتَمَرَ مَعَ حَجَّتِهِ: عُمْرَتَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَمِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَمِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاروں عمرے ذی القعدہ میں کیے سوائے اس عمرے کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیبیہ کا عمرہ کیا اور دوسرا آئندہ سال اس کی قضا کا عمرہ کیا تھا اور (تیسرا) جعرانہ کا عمرہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی، پھر ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 782]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 3 باب كم اعتمر النبي صلي الله عليه وسلم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 783
783 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قِيلَ لَهُ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ قَالَ: تِسْعَ عَشَرَةَ قِيلَ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ: سَبْعَ عَشَرَة قِيلَ: فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ قَالَ: الْعُسَيْرَةُ أَوِ الْعُشَيْرُ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کیے؟ انہوں نے کہا کہ انیس۔ پوچھا گیا کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ میں، پھر پوچھا گیا کہ آپ کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ کہا کہ عسیرہ یا عشیرہ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 783]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 1 باب غزوة العُشَيرة أو العُسَيرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 784
784 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَمَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً، لَمْ يَحُجَّ بَعْدَهَا، حَجَّةَ الْوَدَاعِ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع کیا، اس کے بعد کوئی حج نہیں کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 77 باب حجة الوداع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 785
785 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِذَا نَاسٌ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ صَلاَةَ الضُّحى قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلاَتِهِمْ؛ فَقَالَ: بِدْعَةٌ ثُمَّ قَالَ لَهُ: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعَ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَكَرِهْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ: وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّاهْ، يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلاَ تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمنِ قَالَتْ: مَا يَقُولُ قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمُرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، قَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ، مَا اعْتَمَرَ عُمْرَةً إِلاَّ وَهُوَ شَاهِدُهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ
مجاہد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ مسجد نبوی میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ہم نے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ بدعت ہے، پھر ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے کہا کہ چار، ایک ان میں سے رجب میں کیا تھا، لیکن ہم نے پسند نہیں کیا کہ ان کی اس بات کی تردید کریں۔ مجاہد نے بیان کیا کہ ہم نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے ان کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ نے پوچھا: اے میری ماں! اے ام المومنین! ابو عبدالرحمن کی بات آپ سن رہی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ عروہ نے کہا: وہ کہہ رہے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے جن میں سے ایک رجب میں کیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ ابو عبدالرحمن پر رحم کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی عمرہ ایسا نہیں کیا جس میں وہ (ابن عمر) خود موجود نہ رہے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں تو کبھی عمرہ ہی نہیں کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 785]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 3 باب كم اعتمر النبي صلي الله عليه وسلم»
وضاحت: چاشت کی نماز صحیح احادیث سے ثابت ہے اور پڑھنا مسنون ہے۔ رہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکا نفی کرنا تو وہ ان کے اپنے علم کی حد تک ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نماز چاشت ہمیشہ اور باقاعدہ پڑھنے کی نفی ہے۔ اور جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے اسے بدعت کہا ہے تو ان کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ جب مسجد میں اہتمام کے ساتھ نماز چاشت پڑھی جائے۔ جیسا کہ اس روایت میں لوگوں کا فعل ذکر ہے دوسرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہمیشگی اور مواظبت کا اعتقاد رکھنے کی صورت پر محمول ہوگا۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں