اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
426. باب النزول بمكة للحاج وتوريث دورها
باب: مکہ میں حاجیوں کے اترنے اور مکہ کے گھروں کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 857
857 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ تَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ: وَهَلْ تَرَكَ عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلاَ عَلِيٌّ شَيْئًا َلانَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقیل نے ہمارے لیے محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے؟“ (سب فروخت کر کے برابر کر دیے) عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے، سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے تھے اور عقیل (ابتدا میں) اور طالب اسلام نہیں لائے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 44 باب توريث دور مكة وبيعها وشرائها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»