🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

428. باب تحريم مكة وصيدها وخلاها وشجرها ولقطتها إِلا لمنشد على الدوام
باب: مکہ کی حرمت اور مکہ میں شکار وغیرہ کی حرمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 859
859 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ افْتَتَحَ مَكَّةَ: لاَ هِجْرَةَ [ص:78] وَلكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، فَإِنَّ هذَا بَلَدٌ حَرَّمَ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّموَاتِ وَالأَرْضَ، وَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ َلأحَدٍ قَبْلِى، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلاَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ قَالَ: قَالَ: إِلاَّ الإِذْخِرَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے دن فرمایا: ”اب ہجرت فرض نہیں رہی لیکن (اچھی) نیت اور جہاد اب بھی باقی ہے، اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو تیار ہو جانا۔ اس شہر (مکہ) کو اللہ تعالیٰ نے اسی دن حرمت عطا کی تھی جس دن اس نے آسمان اور زمین پیدا کیے، اس لیے یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حرمت کی وجہ سے محترم ہے، یہاں کسی کے لیے بھی مجھ سے پہلے لڑائی جائز نہیں تھی اور مجھے بھی صرف ایک دن گھڑی بھر کے لیے (فتح مکہ کے دن اجازت ملی تھی)، اب ہمیشہ یہ شہر اللہ کی قائم کی ہوئی حرمت کی وجہ سے قیامت تک کے لیے حرمت والا ہے، پس نہ اس کا کانٹا کاٹا جائے، نہ اس کے شکار ہانکے جائیں اور اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر (ایک گھاس) کی اجازت تو دیجیے کیونکہ یہ یہاں کے کاریگروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کی اجازت ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 859]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 10 باب لا يحل القتال بمكة»
وضاحت: فتح مکہ کے بعد چونکہ مکہ دارالسلام بن چکا ہے اس لیے اب یہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کا وجوب ختم ہو گیا ہے لیکن کافروں سے جہاد اور بھلائی کے کاموں میں اچھی نیت باقی ہے جن سے ہم وہ فضائل حاصل کر سکتے ہیں جو ہجرت سے حاصل ہوتے ہیں۔امام ماوردی، امام نووی کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حرم کے خصائص میں سے ہے کہ حرم میں رہنے والوں سے جنگ اور قتال منع ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ اہل عدل پر بغاوت کرتے ہیں تو بھی فقہاء نے ان سے لڑنے کی حرمت کا فتوٰی دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ اطاعت کی طرف لوٹ آئیں اور اہل عدل کے قوانین کی طرف رجوع کریں۔ جمہور علماء نے کہا ہے کہ جب بغاوت سے قتال کے بغیر انہیں لوٹانا ممکن نہ ہو تو پھر ان سے لڑنا جائز ہے کیونکہ باغیوں سے لڑائی کرنا حقوق اللہ میں سے ہے اور حقوق اللہ کا ضیاع جائز نہیں ہے۔ امام نووی نے بھی اس آخری بات کو ترجیح دی ہے۔(مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 860
860 صحيح حديث أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ؛ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا إِنَّ اللهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لأبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ عَمْرٌو قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ يَا شُرَيْحٍ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ
سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعید (والی مدینہ) سے جب وہ مکہ میں (ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے) فوجیں بھیج رہے تھے کہا کہ اے امیر! مجھے آپ اجازت دیں تو میں وہ حدیث آپ سے بیان کر دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اس (حدیث) کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث فرما رہے تھے تو میری آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، آدمیوں نے حرام نہیں کیا۔ تو (سن لو) کہ کسی شخص کے لیے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں ہے کہ مکہ میں خون ریزی کرے، یا اس کا کوئی پیڑ کاٹے، پھر اگر کوئی اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم کے لڑنے) کی وجہ سے اس کا جواز نکالے تو اس سے کہہ دو: اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجازت دی تھی، تمہارے لیے نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ملی تھی۔ آج اس کی حرمت لوٹ آئی، جیسی کل تھی۔ اور حاضر غائب کو (یہ بات) پہنچا دے۔“ (یہ حدیث سننے کے بعد راویِ حدیث) سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ (آپ کی یہ بات سن کر) عمرو نے کیا جواب دیا؟ فرمایا: (عمرو نے کہا) اے ابو شریح! حدیث کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، مگر حرم (مکہ) کسی خطا کار کو یا خون کر کے اور فتنہ پھیلا کر بھاگ آنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 860]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 37 باب ليبلغ العلم الشاهد الغائب»
وضاحت: امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ امام شافعی اور امام مالک سے منقول ہے کہ قتل اور دیگر حدود کی اقامت میں حرم کا حکم غیر حرم کی مثل ہے اس میں حدیں قائم کی جائیں گی اور قصاص بھی پورا کیا جائے گا خواہ ظلم حرم میں کیا ہو یا باہر کیا ہو بعد میں حرم میں پناہ لی ہو کیونکہ عاصی اور نافرمان خود اپنے نفس کی حرمت کو پامال کرکے اس رعایت کو باطل قرار دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے رکھی ہے۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 861
861 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ َلأحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ َلأحَدٍ بَعْدِي، فَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُفْدَى وَإِمَّا أَنْ يُقِيدَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلاَّ الإِذْخِرَ فَقَامَ أَبُو شَاهٍ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ؛ فَقَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبُوا َلأبِي شَاهٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ فتح کرا دیا تو آپ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے لشکر کو مکہ سے روک دیا تھا لیکن اپنے رسول اور مسلمانوں کو اسے فتح کرا دیا، دیکھو! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا (یعنی وہاں لڑنا) اور میرے لیے صرف دن کے تھوڑے سے حصے میں درست ہوا، اب میرے بعد کسی کے لیے درست نہیں ہوگا، پس اس کے شکار نہ چھیڑے جائیں اور نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں، یہاں کی گری ہوئی چیز صرف اسی کے لیے حلال ہوگی جو اس کا اعلان کرے، جس کا کوئی آدمی قتل کیا گیا ہو اسے دو باتوں کا اختیار ہے: یا (قاتل سے) فدیہ (مال) لے لے یا جان کے بدلے جان لے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر کاٹنے کی اجازت ہو کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔“ پھر ابو شاہ یمن کے ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میرے لیے یہ خطبہ لکھوا دیجیے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم فرمایا: ”ابو شاہ کے لیے یہ خطبہ لکھ دو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 861]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 45 كتاب اللقطة: 7 باب كيف تعرّف لقطة أهل مكة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں