اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
430. باب فضل المدينة ودعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم فيها بالبركة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها
باب: مدینہ کی فضیلت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور اس کے شکار کے حرام ہونے اور اس کے حرم کی حدود کا بیان
حدیث نمبر: 863
863 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا وَحَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ وَدَعَوْتُ لَهَا، فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِمَكَّةَ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کے لیے دعا فرمائی، میں بھی مدینہ کو اسی طرح حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا اور اس کے لیے اس کے مد اور صاع (غلہ ناپنے کے دو پیمانے) کی برکت کے لیے اسی طرح دعا کرتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 863]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 53 باب بركة صاع النبي صلی اللہ علیہ وسلم ومدهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 864
864 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ، وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، قَدْ حَازَهَا، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّى وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَدَعَوْتُ رِجَالاً فَأَكَلُوا، وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ؛ قَالَ: هذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے یہاں کے بچوں میں کوئی بچہ تلاش کر لاؤ جو میرے کام کر دیا کرے“ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کہیں پڑاؤ کرتے میں آپ کی خدمت کرتا، میں سنا کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے، رنج سے، عجز سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں اس وقت سے برابر آپ کی خدمت کرتا رہا یہاں تک کہ ہم خیبر سے واپس ہوئے اور سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پسند فرمایا تھا، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے کپڑے سے پردہ کیا اور پھر انہیں وہاں بٹھایا، آخر جب ہم مقامِ صہبا میں پہنچے تو آپ نے دستر خوان پر حیس (کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ کا ملیدہ) بنایا، پھر مجھے بھیجا اور میں لوگوں کو بلا لایا، پھر سب لوگوں نے اسے کھایا، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی دعوتِ ولیمہ تھی، پھر آپ روانہ ہوئے اور جب احد دکھائی دیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں“ اس کے بعد جب مدینہ نظر آیا تو فرمایا: ”اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو اسی طرح حرمت والا علاقہ بناتا ہوں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر بنایا تھا، اے اللہ! اس کے رہنے والوں کو برکت عطا فرما، ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت فرما۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 864]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 28 باب الحيس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 865
865 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ َلأنَسٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ: نَعَمْ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، لاَ يُقْطَعُ شَجَرُهَا، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِين قَالَ عَاصِمٌ: فَأَخْبَرَنِي مُوسى بْنُ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا
عاصم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! ”فلاں جگہ (عیر) سے فلاں جگہ (ثور) تک اس علاقہ کا درخت نہیں کاٹا جائے گا، جس نے اس حدود میں کوئی نئی بات پیدا کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔“ عاصم رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر مجھے موسیٰ بن انس رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا: ”یا کسی نے دین میں بدعت پیدا کرنے والے کو پناہ دی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 865]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 96 كتاب الاعتصام: 6 باب إثم من آوى محدثا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 866
866 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان کے پیمانوں میں برکت دے، اے اللہ! انہیں ان کے صاع اور مد میں برکت دے۔“ آپ کی مراد اہل مدینہ تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 53 باب بركة صاع النبي ومدهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 867
867 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اللهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ» ”اے اللہ! مکہ میں جتنی برکت عطا فرمائی ہے، مدینہ میں اس سے دوگنی برکت کر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 867]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 10 باب المدينة تنفي الخبث»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 868
868 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه خَطَبَ عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ وَعَلَيْهِ سَيْفٌ فِيهِ صَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدَنَا مِنْ كِتَابٍ يُقْرَأُ إِلاَّ كِتَابُ اللهِ، وَمَا فِي هذِهِ الصَّحِيفَةِ فَنَشَرَهَا فَإِذَا فِيهَا: أَسْنَانُ الإِبِلِ؛ وَإِذَا فِيهَا: الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ عَيْرٍ إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً؛ وَإِذَا فِيهِ: ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً؛ وَإِذَا فِيهَا: مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اینٹ سے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، آپ تلوار لیے ہوئے تھے جس میں ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جسے پڑھا جائے اور سوائے اس صحیفہ کے۔ پھر انہوں نے اسے کھولا تو اس میں دیت میں دیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا (کہ دیت میں اتنی اتنی عمر کے اونٹ دیے جائیں) اور اس میں یہ بھی تھا کہ ”مدینہ طیبہ کی زمین عیر پہاڑی سے ثور پہاڑی تک حرم ہے، پس اس میں جو کوئی نئی بات (بدعت) نکالے گا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی، اللہ اس کی کسی فرض یا نفل عبادت کو قبول نہیں کرے گا، اور مسلمانوں کی ذمہ داری (عہد یا امان) ایک ہے، اس کا ذمہ دار ان میں سب سے ادنیٰ مسلمان بھی ہو سکتا ہے، پس جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی، اللہ اس کی نہ فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل عبادت، اور جس نے کسی سے اپنے والیوں کی اجازت کے بغیر ولاء کا رشتہ قائم کیا، اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ نہ اس کی فرض نماز قبول کرے گا اور نہ نفل۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 868]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 96 كتاب الاعتصام: 5 باب ما يكره من التعمق والتنازع في العلم والغلوّ في الدين والبدع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 869
869 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا حَرَامٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اگر میں مدینہ میں ہرن چرتے ہوئے دیکھوں تو انہیں کبھی نہ چھیڑوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”مدینہ کی زمین دونوں پتھریلے میدانوں کے بیچ میں حرم ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 869]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 4 باب لابتى المدينة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»