اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
449. باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق والبكر بالسكوت
باب: ثیبہ (بیوہ، مطلقہ) کا نکاح کے لیے زبان سے اجازت دینا ضروری ہے
حدیث نمبر: 895
895 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! کنواری عورت اجازت کیسے دے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔“ (یہ خاموشی اس کی رضا مندی سمجھی جائے گی)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 41 باب لا يُنْكِح الأب وغيره البكر والثيب إلا برضاها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 896
896 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ يُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تُسْتَأْمَرُ فَتَسْتَحِي فَتَسْكُتُ، قَالَ: سُكَاتُهَا إِذْنُهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلے میں اجازت لی جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: لیکن کنواری لڑکی سے اگر اجازت لی جائے تو وہ شرم کی وجہ سے چپ سادھ لے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 89 كتاب الإكراه: 3 باب لا يجوز نكاح المكره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»