اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
451. باب الصداق وجواز كونه تعليم قرآن وخاتم حديد وغير ذلك من قليل وكثير واستحباب كونه خمسمائة درهم لمن لا يجحف به
باب: مہر کا بیان اور قرآن کی تعلیم اور لوہے وغیرہ کا چھلا مہر ٹھہرانے کا بیان اور صاحب استطاعت کے لیے پانچ سو درہم مہر مستحب ہے
حدیث نمبر: 898
898 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ جِئْتُ لأَهَبَ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ؛ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ؛ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ: لاَ، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ؛ فَقَالَ؛ لاَ، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا قَالَ: انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: لاَ، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلكِنْ هذَا إِزَارِي (قَالَ سَهْلٌ مَالَهُ رِدَاءٌ) فَلَهَا نِصْفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَيْءٌ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا وَسُورَة كَذَا؛ عَدَّهَا، قَالَ: أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے کے لیے لائی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر نظر نیچی کر لی اور سر جھکا لیا، جب ان خاتون نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب اٹھے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو میرے ساتھ ان کا نکاح کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہارے پاس (مہر کے لیے) کچھ بھی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز مل جائے۔“ وہ صاحب گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! مجھے وہاں کوئی چیز نہیں ملی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دیکھ لو، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔“ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ گئے اور عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مجھے نہیں ملی، البتہ یہ ایک تہمد میرے پاس ہے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی چادر بھی (اوڑھنے کے لیے) نہیں تھی۔ ان صحابی نے کہا: خاتون کو اس میں سے آدھا پھاڑ کر دے دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اس تہمد کا وہ کیا کرے گی؟ اگر تم اسے پہنتے ہو تو اس کے پاس کچھ نہیں رہے گا، اور اگر وہ پہنتی ہے تو تمہارے پاس کچھ نہیں رہے گا۔“ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے، کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ اٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے ہوئے دیکھا اور انہیں بلوایا، جب وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟“ انہوں نے بتلایا کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، انہوں نے ان کے نام گنائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم انہیں زبانی پڑھ لیتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، قرآن مجید کی جو سورتیں تمہیں یاد ہیں، ان کے بدلہ میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 22 باب القراءة عن ظهر قلب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 899
899 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ قَالَ: مَا هذَا قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: بَارَكَ اللهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے، دعوتِ ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 56 باب كيف يدعى للمتزوج»
الحكم على الحديث:
«صحیح»