اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
491. باب تحريم بيع الحاضر للبادي
باب: شہر والا باہر والے کا مال نہ بیچے
حدیث نمبر: 973
973 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ (قَالَ الرَّاوِي) فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ: لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تجارتی) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو (ان کو منڈی میں آنے دو) اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے“ (راوی کہتے ہیں) کہ اس پر میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ دلال نہ بنے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 973]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 68 باب هل يبيع حاضر لباد بغير أجر وهل يُعينُهُ أو ينصحه»
حدیث نمبر: 974
974 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالَكٍ رضي الله عنه، قَالَ: نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مالِ تجارت بیچے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 70 باب لا يبيع حاضر لباد بالسمسرة»