اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
508. باب فضل إنظار المعسر
باب: مفلس کو مہلت دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1006
1006 صحيح حديث حُذَيْفَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَقَّتِ الْمَلاَئِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، قَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا، قَالَ: كُنْتُ آمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا وَيَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: قَالَ فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے گزشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس (موت کے وقت) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو (جو ان کے مقروض ہوں) مہلت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں اور محتاجوں کو معاف کر دیا کریں۔“ راوی نے بیان کیا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 17 باب من أنظر موسرًا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1007
1007 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيانِهِ تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ، شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے (آخرت میں) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے (اس کے مرنے کے بعد) اس کو بخش دیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 18 باب من أنظر معسرًا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»