🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

512. باب الأمر بقتل الكلاب
باب: کتے ہلاک کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1011
1011 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کتوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 17 باب إذا وقع الذباب في شراب أحدكم»
وضاحت: شکار کے لیے یا گھر بار کی رکھوالی کے لیے کتے پالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پاگل کتے یا جو کتنے انسانوں کے دشمن ہوں اور کاٹنے کے لیے دوڑتے ہوں، انھیں مارنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1012
1012 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ ضَارٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا کتا پالا جو نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ہے اور نہ شکار کرنے کے لیے، تو روزانہ اس کی نیکیوں میں سے دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1012]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 6 باب من اقتنى كلبًا ليس بكلب صيد أو ماشية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1013
1013 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَمْسَك كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ، إِلاَّ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی کتا رکھا، اس نے روزانہ اپنے عمل سے ایک قیراط کی کمی کر لی۔ البتہ کھیتی یا مویشی (کی حفاظت کے لیے) کتے اس سے الگ ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 3 باب اقتناء الكلب للحرث»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1014
1014 صحيح حديث سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا، نَقَصَ كلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ”جس نے کتا پالا، جو نہ کھیتی کے لیے ہے اور نہ مویشی کے لیے تو اس کی نیکیوں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو جاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 3 باب اقتناء الكلب للحرث»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں