اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
523. باب السلم
باب: بیع سلم کا بیان
حدیث نمبر: 1034
1034 صحيح حديث ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ بِالتَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ، فَقَالَ: مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو لوگ کھجور میں دو اور تین سال تک کے لیے بیعِ سلم کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ ”جسے کسی چیز کی بیعِ سلم کرنی ہے، اسے مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے ٹھہرا کر کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 35 كتاب السلم: 2 باب السلم في وزن معلوم»
وضاحت: مثلاً ۱۰۰ روپے کا اتنے وزن کا غلہ آج سے پورے تین ماہ بعد تم سے وصول کروں گا۔یہ طے کر کے خریدار نے سو روپیہ اسی وقت ادا کر دیا۔ یہ بیع سلم ہے جو جائز ہے۔ اب مدت پوری ہونے پر وزن مقررہ کا غلہ اسے خریدار کو ادا کرنا ہو گا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»