🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

535. باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة
باب: اولاد میں بعض لڑکوں کو کم دینا اور بعض کو زیادہ دینا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1048
1048 صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ قَالَ: لاَ، قَالَ: فَارْجِعْهُ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر (ان سے بھی) واپس لے لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الهبات/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 12 باب الهبة للولد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1049
1049 صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ، لاَ أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هذَا قَالَ: لاَ قَالَ فَاتَّقُوا اللهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ قَالَ: فَرَجَعَ، فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ
سیدنا عامر نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ (حاضرِ خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کی کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔“ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الهبات/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 13 باب الإشهاد في الهبة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں