اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
539. باب وصول ثواب الصدقات إلى الميت
باب: صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے
حدیث نمبر: 1055
1055 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَعَمْ» ”ہاں ملے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الوصية/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 95 باب موت الفجأة البغتة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»