🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

545. باب النهي عن الحلف بغير الله تعالى
باب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1066
1066 صحيح حديث عُمَرَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ قَالَ عُمَرُ: فَوَاللهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: «وَاللّٰهِ» ! پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی ان کی قسم نہیں کھائی، نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی اور نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان: 4 باب لا تحلفوا بآبائكم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1067
1067 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَنَادَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ إِنَّ اللهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللهِ، وَإِلاَّ فَلْيَصْمُتْ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکار کر فرمایا: ”آگاہ رہو! یقیناً اللہ پاک تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ داداؤں کی قسم کھاؤ، پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے تو وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 74 باب من لم ير إكفار من قال ذلك متأولاً أو جاهلا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں