🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

554. باب من أعتق شركًا له في عبد
باب: دو مالکوں کے مشترکہ غلام کو آزاد کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1082
1082 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ، وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مشترک غلام کے اپنے حصے کو آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی پوری قیمت ادا کرنے کے لیے مال بھی ہے تو پورا غلام اسے آزاد کرانا لازم ہے، لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے پورے غلام کی صحیح قیمت ادا کی جاسکے تو پھر غلام کا جو حصہ آزاد ہو گیا وہی آزاد ہوا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 4 باب إذا أعتق عبدًا بين اثنين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1083
1083 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوكِهِ، فَعَلَيْهِ خَلاَصُهُ فِي مَالِهِ؛ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْمَمْلُوكُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مال سے غلام کو پوری آزادی دلا دے، لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے، پھر غلام سے کہا جائے کہ اپنی (آزادی کی) کوشش میں وہ باقی حصے کی قیمت خود کما کر ادا کر لے، لیکن غلام پر اس کے لیے کوئی دباؤ نہ ڈالا جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 47 كتاب الشركة: 5 باب تقويم الأشياء بين الشركاء بقيمة عدل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں