اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
564. باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال
باب: جان و مال اور عزت و آبرو کی حرمت کی تاکید
حدیث نمبر: 1094
1094 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّموَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا؛ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مَضَرَ، الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ؛ أَيُّ شَهْرٍ هذَا قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ ذُو الْحِجَّةِ قُلْنَا: بَلَى قَالَ: فَأَيُّ بَلَدٍ هذَا قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ قُلْنَا: بَلَى قَالَ: فَأَيُّ يَوْمٍ هذَا قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغيْرِ اسْمِهِ قَالَ: أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا: بَلَى قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ (أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هذَا فِي بَلَدِكُمْ هذَا في شَهْرِكُمْ هذَا؛ وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَسَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ أَنْ يُكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَن سَمِعهُ فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ: صَدَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ اپنی اصل حالت پر گھوم کر آگیا ہے، اس دن کی طرح جب اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ دیکھو! سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں، چار ان میں سے حرمت والے مہینے ہیں۔ تین لگاتار ہیں: ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، (اور چوتھا) «رَجَبُ مُضَرَ» ”رجب مضر“ جو جمادی الاولیٰ اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا): ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہتر علم ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، ہم نے سمجھا شاید آپ مشہور نام کے سوا اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟“ ہم بولے کہ کیوں نہیں، پھر دریافت فرمایا: ”یہ شہر کون سا ہے؟“ ہم بولے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہتر علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش ہو گئے، ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی اور نام آپ رکھیں گے جو مشہور نام کے علاوہ ہو گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ مکہ نہیں ہے؟“ ہم بولے کہ کیوں نہیں (یہ مکہ ہی ہے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اور یہ دن کون سا ہے؟“ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ بہتر علم ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا شاید اس کا آپ اس کے مشہور نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ «يَوْمُ النَّحْرِ» ”یوم النحر (قربانی کا دن)“ نہیں ہے؟“ ہم بولے کہ کیوں نہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تمہارا خون اور تمہارا مال“ محمد (حدیث کے ایک راوی) نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: ”اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن، تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں، اور تم جلد اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ اس لیے میرے بعد تم گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ ہاں، اور جو یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ جسے وہ پہنچائیں ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جو یہاں بعض سننے والوں سے زیادہ اس (حدیث) کو یاد رکھ سکتا ہو۔“ محمد بن سیرین رحمہ اللہ جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں نے (پیغام الٰہی) پہنچا دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ جملہ فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 77 باب حجة الوداع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»