اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
580. باب كراهة قضاء القاضي وهو غضبان
باب: قاضی کو غصے کی حالت میں فیصلہ کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1119
1119 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ، وَكَانَ بِسِجِسْتَانَ، بِأَنْ لاَ تَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے (عبید اللہ) کو لکھا اور وہ اس وقت سجستان میں تھے کہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرنا جب تم غصے میں ہو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ”کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصے میں ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأقضية/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 13 باب هل يقضي الحاكم أو يفتي وهو غضبان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»