اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
583. باب استحباب إِصلاح الحاكم بين الخصمين
باب: حاکم وقت کو دونوں فریقوں کے درمیان صلح کرا دینی بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 1122
1122 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ: خذْ ذَهَبَكَ مِنِّي، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ وَقَالَ الَّذِي لَهُ الأَرْضُ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ وَمَا فِيهَا؛ فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ: أَلَكُمَا وَلَدٌ قَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلاَمٌ، وَقَالَ الآخَرُ: لِي جَارِيَةٌ؛ قَالَ: أَنْكِحُوا الْغُلاَمَ الْجَارِيَةَ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے دوسرے شخص سے مکان خریدا، پھر مکان کے خریدار کو اس مکان میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا، جس پر اس نے اس شخص سے، جس سے مکان خریدا تھا، کہا: اپنا گھڑا لے جاؤ، کیونکہ میں نے تم سے مکان خریدا ہے، سونا نہیں خریدا تھا۔ لیکن پہلے مالک نے کہا: میں نے وہ مکان ان تمام چیزوں سمیت تمہارے ہاتھ بیچا تھا جو اس کے اندر موجود تھیں۔ پس وہ دونوں ایک (تیسرے) شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے ہاں کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرے ہاں ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ تو فیصلہ کرنے والے نے ان سے کہا: لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو، یہ سونا انھی پر خرچ کرو اور صدقہ بھی کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأقضية/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»