🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

587. باب جواز الإغارة على الكفار الذين بلغتهم دعوة الإسلام من غير تقدم الإعلام بالإغارة
باب: جن کفار کو دعوت اسلام دی جا چکی ہو ان پر بغیر اطلاع کے حملہ کیا جا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1129
1129 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق پر جب حملہ کیا تو وہ بالکل غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا گیا اور عورتوں و بچوں کو قید کر لیا گیا، انہیں قیدیوں میں سیدنا جویریہ رضی اللہ عنہا (ام المومنین) بھی تھیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسلامی فوج کے ہمراہ تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1129]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 13 باب من ملك من العرب رقيقًا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں