🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

597. باب استحقاق القاتل سلب القتيل
باب: مقتول کے مال و متاع کا حق دار اسے قتل کرنے والا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1144
1144 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ حَتَّى ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ: أَمْرُ الله ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ الثَالِثَةَ مِثْلَهُ فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَلَبُهُ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ عَنِّي فَقَالَ أَبُو بَكْر الصِّدِّيق رضي الله عنه: لاَهَا اللهِ، إِذَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللهِ، يُقَاتِلُ عَنِ اللهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْطِيكَ سَلَبَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ فَأَعْطَاهُ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرِفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأْثَّلْتهُ فِي الإِسْلاَمِ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوۂ حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو (ابتدا میں) اسلامی لشکر ہارنے لگا۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ مشرکین کے لشکر کا ایک شخص ایک مسلمان کے اوپر چڑھا ہوا ہے، اس لیے میں فوراً ہی گھوم پڑا اور اس کے پیچھے سے آ کر تلوار اس کی گردن پر ماری۔ اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا، اور مجھے اتنی زور سے اس نے بھینچا کہ میری روح جیسے قبض ہونے کو تھی۔ آخر جب اس کو موت نے آ دبوچا، تب کہیں جا کر اس نے مجھے چھوڑا۔ اس کے بعد مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملے، تو میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اب کس حالت میں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا لیکن مسلمان ہارنے کے بعد پھر مقابلہ پر سنبھل گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: ”جس نے بھی کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس پر وہ گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا ساز و سامان اسے ہی ملے گا۔“ (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا) میں بھی کھڑا ہوا۔ اور میں نے کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا کہ میں نے اس شخص کو قتل کیا تھا؟ لیکن (جب میری طرف سے کوئی نہ اٹھا تو) میں بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(آج) جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کی طرف سے کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا سارا سامان اسے ملے گا۔“ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ اور پھر مجھے بیٹھنا پڑا۔ تیسری مرتبہ پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد دہرایا اور اس مرتبہ جب میں کھڑا ہوا تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی دریافت فرمایا: ”کس چیز کے متعلق کہہ رہے ہو ابوقتادہ!“ میں نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا، تو ایک صاحب (اسود بن خزاعی اسلمی) نے بتایا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں، یا رسول اللہ! اور اس مقتول کا سامان میرے پاس محفوظ ہے۔ اور میرے حق میں انہیں راضی کر دیجیے (کہ وہ مقتول کا سامان مجھ سے نہ لیں) لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ، جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے لڑے، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے کہ ان کا سامان تمہیں دے دیں، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر نے سچ کہا ہے۔“ پھر آپ نے سامان سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر اس کی زرہ بیچ کر میں نے بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 7 كتاب فرض الخمس: 18 باب من لم يخمس الأسلاب، ومن قتل قتيلاً فله سلبه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1145
1145 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ، فَنظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بِغُلاَمَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبا جَهْلٍ قُلْتُ: نَعَمْ، مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لاَ يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذلِكَ فَغَمَزَنِي الآخَرُ، فَقَالَ لِي مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاس، قلْتُ: أَلاَ إِنَّ هذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفِيْهِمَا، فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلاَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ: أَيُّكُمَا قَتَلَهُ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ؛ فَقَالَ: هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا قَالاَ: لاَ فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ: كِلاَكُمَا قَتَلَهُ، سَلَبُهُ لِمُعَاذٍ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَكَانَا مُعَاذَ بْنَ عَفْرَاءَ، وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا، میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے، میں نے آرزو کی کہ کاش! میں ان سے زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا، ایک نے میری طرف اشارہ کیا اور پوچھا: چچا! کیا آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی، جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہوگا، مر نہ جائے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی، پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں، ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں (کفار کے لشکر) میں گھومتا پھر رہا تھا، میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ سامنے (پھرتا ہوا نظر آ رہا) ہے، دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے؟“ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا: ”تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے اور اس کا سارا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا“، وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1145]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 18 باب من لم يخمس الأسلاب ومن قتل قتيلاً فله سلبه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں