اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
615. باب قتل أبي جهل
باب: ابو جہل کا قتل
حدیث نمبر: 1178
1178 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ بَدْرٍ: مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ، حَتَّى بَرَدَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ: أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ، أَوْ قَالَ: قَتَلْتُمُوهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا: ”کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ معلوم کرنے گئے تو دیکھا کہ عفراء کے دونوں لڑکوں نے اسے قتل کر دیا تھا اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے، انہوں نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا: ”تو ہی ابوجہل ہے؟“ اس نے کہا: ”کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے آج اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے، یا (اس نے یوں کہا کہ) تم لوگوں نے اسے قتل کر ڈالا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1178]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 8 باب قتل أبي جهل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»