اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
619. باب غزوة ذي قرد وغيرها
باب: غزوۂ ذی قرد وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 1186
1186 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالأُولَى، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ، قَالَ: فَلَقِيَنِي غُلاَمٌ لِعَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا قَالَ: غَطَفَانُ قَالَ: فَصَرَخْتُ ثَلاَثَ صَرَخَاتٍ، يَا صَبَاحَاهُ قَالَ: فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لاَبَتَي الْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَكُنْتُ رَامِيًا، وَأَقُولُ: أَنَا ابْنُ الأَكْوَعْ الْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً قَالَ: وَجَاءَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمِ السَّاعَةَ فَقَالَ: يَا ابْنَ الأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ قَالَ: ثُمَّ رَجَعْنَا، وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ
سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فجر کی اذان سے پہلے میں (مدینہ سے باہر غابہ کی طرف نکلا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ دینے والی اونٹنیاں ذات القرد میں چرا کرتی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں مجھے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ملے اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑ لی گئی ہیں، میں نے پوچھا کہ کس نے پکڑا انہیں؟ انہوں نے بتایا کہ قبیلہ غطفان والوں نے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے تین مرتبہ بڑی زور زور سے پکارا: «يَا صَبَاحَاهُ» ”ہائے صبح کی پکار!“ انہوں نے بیان کیا کہ اپنی آواز میں نے مدینہ کے دونوں کناروں تک پہنچا دی اور اس کے بعد میں سیدھا تیزی کے ساتھ دوڑتا ہوا آگے بڑھا اور آخر انہیں جا لیا۔ اس وقت وہ جانوروں کو پانی پلانے کے لیے اترے تھے۔ میں نے ان پر تیر برسانے شروع کر دیے، میں تیر اندازی میں ماہر تھا اور یہ شعر کہتا جاتا تھا: «أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ» ”میں ابن الاکوع ہوں، آج ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے“ میں یہی رجز پڑھتا رہا اور آخر اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں بلکہ تیس چادریں ان کی میرے قبضے میں آ گئیں۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر آگئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تیر مار مار کر ان کو پانی نہیں پینے دیا اور وہ ابھی پیاسے ہیں، آپ فوراً ان کے تعاقب کے لیے فوج بھیج دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن الاکوع! جب تو نے کسی پر قابو پا لیا تو پھر نرمی اختیار کیا کر۔“ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، پھر ہم واپس آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھا کر لائے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 37 باب غزوة ذات القرد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»