🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

629. باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في المعصية
باب: غیر معصیت میں بادشاہ یا حاکم یا امام کی اطاعت واجب ہے اور گناہ میں اطاعت حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1203
1203 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ (أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولى الأَمْرِ مِنْكُمْ) ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ، إِذْ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت ﴿اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے حاکموں کی﴾ [سورة النساء: 59] عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہم پر بطور افسر روانہ کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1203]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 11 باب قوله (أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1204
1204 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصى اللهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَد أَطَاعِني، وَمَنْ عَصى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے (مقرر کیے ہوئے) امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی۔ (لیکن اگر امیر کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنا ہو گا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1204]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 1 باب قول الله تعالى (أطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم»
وضاحت: لیکن اگر امیر کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنا ہو گا۔ (راز)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے ملاتے ہوئے ان کی شان اور تعظیم کا جو اہتمام کیا ہے امام خطابی اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قریش اور ان کے عرب پیرو کار اور حلیف امارت کو نہیں جانتے تھے اور اپنے قبیلوں کے سرداروں کے علاوہ کسی کی اطاعت اور پیروی قبول نہیں کرتے تھے جب اسلام آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے امیر اور والی مقرر کیے تو انہیں یہ ناگوار گذرا اور بعض نے پیروی کرنے سے نکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ ان کی اطاعت میری اطاعت سے مربوط ہے اور ان کی نا فرمانی میری نا فرمانی سے مربوط ہے۔ اس طرح انہیں امراء کی اطاعت پر آمادہ کیا تاکہ کلمہ ایک رہے اور اُمت کا شیرازہ نہ بکھر جائے۔ (مرتب)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1205
1205 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ؛ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے، پھر جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے نہ اطاعت کرنا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 4 باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1206
1206 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ فَغَضِبَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي قَالُوا: بَلَى قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَمَا جَمَعْتُمْ حَطَبًا وَأَوْقَدْتُمْ نَارًا ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِيهَا فَجَمَعُوا حَطَبًا، فَأَوْقَدُوا فَلَمَّا هَمُّوا بِالدُّخُولِ، فَقَامَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ، قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا تَبِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارًا مِنَ النَّارِ، أَفَنَدْخُلُهَا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذلِكَ إِذْ خَمَدَتِ النَّارُ، وَسَكَنَ غَضَبُهُ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوف
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر مقرر فرمایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ضرور دیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا: میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔ لوگوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی۔ جب انہوں نے کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے ہی کے لیے تو کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں؟ اسی دوران آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے، «إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ» اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 4 باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1207
1207 صحيح حديث عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ جُنَادةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، قُلْنَا: أَصْلَحَكَ اللهُ، حَدِّثْ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهِ، سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دَعَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا، أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأُثْرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانٌ
جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے، وہ مریض تھے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے، کوئی حدیث بیان کیجیے جس کا نفع آپ کو اللہ تعالیٰ پہنچائے۔ (انہوں نے بیان کیا کہ) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «لَيْلَةُ الْعَقَبَةِ» لیلۃ العقبہ میں سنا ہے کہ آپ نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی۔ جن باتوں کا آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو علانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں، اگر وہ علانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس دلیل مل جائے گی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1207]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 92 كتاب الفتن: 2 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم سترون بعدي أمورًا تنكرونها»
وضاحت: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیںحدیث کا معنی یہ ہے کہ حکمرانوں سے ان کی حکمرانی میں جھگڑا نہ کرو نہ ان کی مخالفت کرو سوائے اس کے کہ وہ اسلام کے احکام کے خلاف صریح کفر کا ارتکاب کریں۔جب ایسا کفر دیکھو تو ان کی مخالفت کرو باقی ان کے خلاف بغاوت اور خروج اور ان سے لڑنا حرام ہے جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے اگرچہ وہ فاسق و فاجر اور ظالم ہوں۔ (مرتب)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں