🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

643. باب فضل الشهادة في سبيل الله تعالى
باب: اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1232
1232 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، إِلاَّ الشَّهِيدُ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے ساری دنیا مل جائے، سوائے شہید کے؛ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو (اللہ کے راستے میں) کیونکہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 21 باب تمنى المجاهد أن يرجع إلى الدنيا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1233
1233 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: لاَ أَجِدُهُ قَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ، إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ، أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ وَلاَ تَفْتُرَ، وَتَصُومَ وَلاَ تُفْطِرَ قَالَ: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لیے) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور (نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور (کوئی دن) بغیر روزے کے نہ گزرے؟ ان صاحب نے عرض کیا: بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 1 باب فضل الجهاد والسير»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں