اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
660. باب تحريم أكل لحم الحمر الإنسية
باب: پالتو گدھوں کا گوشت حرام ہے
حدیث نمبر: 1262
1262 صحيح حديث عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ أَكْلِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ”عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کے کھانے کی ممانعت فرمائی تھی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1263
1263 صحيح حديث أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے کا گوشت کھانا حرام قرار دیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 28 باب لحوم الحمر الإِنسية»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1264
1264 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهى النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پالتو گدھوں کے گوشت“ کی ممانعت فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1265
1265 صحيح حديث ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ، لَيَالِيَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَانْتَحَرْنَاهَا، فَلَمَّا غَلَتِ الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ فَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا قَالَ عَبْدُ اللهِ (هُوَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى) : فَقُلْنَا إِنَّمَا نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ، قَالَ: وَقَالَ آخَرُونَ حَرَّمَهَا الْبَتَّةَ
سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جنگِ خیبر کے موقع پر فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو (مالِ غنیمت میں) گھریلو گدھے بھی ہمیں ملے۔ چنانچہ انہیں ذبح کر کے (پکانا شروع کر دیا گیا)، جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ”ہانڈیوں کو الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ۔“ عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بعض لوگوں نے اس پر کہا کہ غالباً آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے روک دیا ہے کہ ابھی تک اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا لیکن بعض دوسرے صحابہ نے کہا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1265]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 20 باب ما يصيب من الطعام في أرض الحرب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1266
1266 صحيح حديث الْبَرَاءِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابُوا حُمُرًا فَطَبَخُوهَا، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْفِئُوا الْقُدُورَ
سیدنا براء اور عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ”ہانڈیاں انڈیل دو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1266]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1267
1267 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، قَالَ: لاَ أَدْرِي أَنْهى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ، لَحْمَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ اس سے بوجھ ڈھونے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ بوجھ ڈھونے والے جانور ختم ہو جائیں، یا آپ نے صرف غزوۂ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1268
1268 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نِيرَانًا تُوقَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ: عَلَى مَا توقَدُ هذِهِ النِّيرَانُ قَالُوا: عَلَى الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ، قَالَ: اكْسِرُوهَا وَأَهْرِقُوهَا قَالُوا: أَلاَ نُهَرِيقهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ: اغْسِلُوا
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر دیکھا کہ آگ جلائی جا رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ آگ کس لیے جلائی جا رہی ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ گدھے (کا گوشت پکانے) کے لیے، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن (جس میں گدھے کا گوشت ہو) توڑ دو اور گوشت پھینک دو۔“ اس پر صحابہ بولے ایسا کیوں نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور برتن دھو لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن دھو لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 46 كتاب المظالم: 32 باب هل تكسر الدنان التي فيها الخمر أو تخرق الزقاق»
الحكم على الحديث:
«صحیح»