اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
686. باب ما يفعل الضيف إِذا تبعه غير من دعاه صاحب الطعام واستحباب إِذن صاحب الطعام للتابع
باب: اگر مہمان کے ساتھ کوئی طفیلی ہو جائے تو اس کے لیے میزبان سے اجازت طلب کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 1321
1321 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ، فَقَالَ لِغُلاَمٍ لَهُ قَصَّابٍ: اجْعَلْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَإِنِّي قَدْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ فَدَعَاهُمْ، فَجَاءَ مَعَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هذَا قَدْ تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ، فَأْذِنْ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ يَرْجِعَ رَجَعَ فَقَالَ: لاَ، بَلْ قَدْ أَذِنْتُ لَهُ
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار میں سے ایک صحابی جن کی کنیت ابو شعیب رضی اللہ عنہ تھی، تشریف لائے اور اپنے غلام سے جو قصاب تھا، فرمایا کہ میرے لیے اتنا کھانا تیار کر جو پانچ آدمیوں کے لیے کافی ہو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ اور چار آدمیوں کی دعوت کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بھوک کا اثر نمایاں دیکھا ہے۔ چنانچہ انہوں نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ آپ کے ساتھ ایک اور صاحب بھی آگئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ ایک اور صاحب زائد آگئے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو انہیں بھی اجازت دے سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو واپس کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ نہیں، بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 21 باب ما قيل في اللحّام والجزّار»
الحكم على الحديث:
«صحیح»