اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
722. باب استحباب تغيير الاسم القبيح إِلى حسن وتغيير اسم برة إِلى زينب وجويرية ونحوها
باب: برے نام کو اچھے نام سے بدلنا مستحب ہے اور برہ کو زینب اور جویریہ وغیرہ سے بدلنا
حدیث نمبر: 1384
1384 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةً، فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَيْنَبَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المومنین زینب رضی اللہ عنہا کا نام «بَرَّة» تھا، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1384]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 108 باب تحويل الاسم إلى اسم أحسن منه»
وضاحت: لفظ ”برہ“ بہت نیکوکار کے معنی میں ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آیا تھا۔ کیونکہ اس میں خود پسندی کی جھلک آتی تھی۔ اس لیے یہ نام بدل دیا گیا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»