🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

771. باب توكله على الله تعالى وعصمة الله تعالى له من الناس
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توکل کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں سے آپ کو محفوظ رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1470
1470 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ، وَهُوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَاسْتَظَلَّ بِهَا، وَعَلَّقَ سَيْفَهُ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْنَا، فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: إِنَّ هذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاخْتَرَطَ سَيْفِي فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، مُخْتَرِطٌ صَلْتًا قَالَ: مَنْ يَمْنَعكَ مِنِّي قُلْتُ: اللهُ فَشَامَهُ، ثُمَّ قَعَدَ فَهُوَ هذَا قَالَ: وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لیے گئے، دوپہر کا وقت ہوا تو آپ ایک جنگل میں پہنچے جہاں ببول کے درخت بہت تھے، آپ نے گھنے درخت کے نیچے سایہ کے لیے قیام کیا اور درخت سے اپنی تلوار لٹکا دی، صحابہ رضی اللہ عنہم بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے پھیل گئے، ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا، ہم حاضر ہوئے تو ایک بدوی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص میرے پاس آیا تو میں سو رہا تھا، اتنے میں اس نے میری تلوار کھینچ لی اور میں بھی بیدار ہو گیا۔ یہ میری ننگی تلوار کھینچے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا، مجھ سے کہنے لگا: آج مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ! (وہ شخص صرف ایک لفظ سے اتنا مرعوب ہوا کہ) تلوار کو نیام میں رکھ کر بیٹھ گیا اور دیکھ لو یہ بیٹھا ہوا ہے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1470]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 32 باب غزوة المصطلق من خزاعة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں