اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
777. باب في شجاعة النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وتقدّمه للحرب
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت اور جنگ کے لیے آگے بڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1489
1489 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً، فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ، لأَبِى طَلْحَةَ، عُرْيٍ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ: لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا ثُمَّ قَالَ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ قَالَ: إِنَّهُ لَبَحْرٌ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ (پر ایک آواز سن کر) بڑا خوف چھا گیا تھا، سب لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی واقعہ کی تحقیق کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کی پشت ننگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سے تلوار لٹک رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «لَنْ تُرَاعُوا» ”ڈرو مت“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا» ”ہم نے تو گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا ہے“ یا (یہ فرمایا کہ) ”گھوڑا جیسے سمندر ہے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 82 باب الحمائل وتعليق السيف بالعنق»
الحكم على الحديث:
«صحیح»