اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
781. باب رحمته صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصبيان والعيال وتواضعه وفضل ذلك
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا بیان جو بچوں اور گھر والوں پر تھی اور اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 1495
1495 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَكَانَ ظِئْرًا لإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ، بَعْدَ ذلِكَ، وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ عَوْفٍ رضي الله عنه: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلاَ نَقُولُ إِلاَّ مَا يَرضى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ، يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو سیف لوہار کے ہاں گئے، یہ ابراہیم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا، انہیں پیار کیا اور سونگھا۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں دوبارہ گئے تو دیکھا کہ اس وقت ابراہیم رضی اللہ عنہ دم توڑ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لوگوں کی طرح بے صبری کرنے لگے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عوف! یہ بے صبری نہیں یہ تو رحمت ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا: ”آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے، پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 44 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إنا بك لمحزونون»
وضاحت: حضرت امام بخاری رحمہ اللہ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اس طرح آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور دل غمگین ہو اور زبان سے کوئی لفظ اللہ کی ناراضگی کا نہ نکلے تو ایسا رونا بے صبری نہیں۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1496
1496 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ أَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں، ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 18 باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1497
1497 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَبَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَعِنْدَهُ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيميُّ، جَالِسًا فَقَالَ الأَقْرَعُ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْولَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”جو مخلوق خدا پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1497]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 18 باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1498
1498 صحيح حديث جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 27 باب رحمة الناس والبهائم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»